News Details

19/05/2022

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے بدھ کے روز ضلع لوئر دیر کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے بدھ کے روز ضلع لوئر دیر کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے دیر میں منڈا گرڈ اسٹیشن اور جندول گرڈ اسٹیشن کا افتتاح کیا جو باالترتیب 67 کروڑاور 50 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی دیر کیمپس اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تیمر گرہ کی اپگریڈیشن کا بھی افتتاح کیا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی اپگریڈیشن پر ایک ارب 64 کرو ڑ روپے لاگت آئی ہے ۔ انہوں نے گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم خال اور بلامبٹ کینال کی بہتری کے منصوبوں کا افتتاح کیا جومجموعی طور پر 93کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعددمنصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا جن میں دیر یونیورسٹی کا قیام ، دریائے پنجکوڑہ پر آر سی سی پل کی تعمیر ، بلامبٹ میں سپورٹس ایرینا اور جمازیم کی تعمیر ، شہید چوک تیمرگرہ فلائی اوور کی تعمیر ، میاں کلے تا کمبٹ بائی پاس کی تعمیر ، تالاش بائی پاس روڈ کی تعمیر اور سپورٹس کمپلیکس تیمرگرہ کا قیام شامل ہیں۔ یہ منصوبے تقریباً پونے پانچ ارب روپے کے مجموعی تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دیر کے منتخب عوامی نمائندوں نے محض باتوں کے علاوہ علاقے کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے دیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیاہے، دیر کے تمام میگا ترقیاتی منصوبے ٹریک پرہیں۔ محمود خان نے کہا کہ دیر موٹروے کا منصوبہ پورے علاقے کی ترقی کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے، یہ صوبائی حکومت کا اپنا منصوبہ ہے جو 36 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تین مہینوں کے اندر اندر دیر موٹروے منصوبے پر عملی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ دیر یونیورسٹی کا قیام علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا،یہ منصوبہ دیر کے عوام کے لئے صوبائی حکومت کا تحفہ ہے۔علاوہ ازیں دیر کیڈٹ کالج کے قیام کے لئے زمین کی خریداری کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔ دیر میں دیگر ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ دیر میں چار ٹووارزم سپاٹس کو ترقی دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ تیمرگرہ گریٹر واٹر سپلائی اسکیم دو ارب روپے کا منصوبہ ہے اس پر جلد کام شروع کیا جائے گا جبکہ گوپلم ایریگیشن چینل کا منصوبہ ایکنک کی منظوری کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اسی طرح لڑم سر روڈ منصوبے کو ورلڈ بینگ پراجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچھ لوگ ہمارے شروع کردہ منصوبوں پر اپنے ناموں کی تختیاں لگانا چاہتے ہیں جو کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعلیٰ نے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرنے پر دیر کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بہت جلد عام انتخابات ہونے جارہے ہیں اور پی ٹی آئی پھرسے اقتدار میں آئے گی۔ محمود خان نے کہا کہ ہماری سیاست کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہے، ہمارا اور کوئی ایجنڈا نہیں۔پاکستان 1947 میں آزاد ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے ماضی کے حکمران بیرونی طاقتوں کے غلام رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پختون قوم کبھی غلطی قبول نہیں کرتی، آزادی مارچ کو خیبر پختونخوا کے لوگ کامیاب بنائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ پی ٹی آئی کی جنگ نہیںبلکہ قوم کی خودمختاری کی جنگ ہے عوام سے اپیل ہے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر عمران خان کا بھر پور ساتھ دیں۔ ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات حاصل کریں گے، وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پوری قوم عمران خان کے ساتھ ہے، جس بڑی تعداد میں لوگ پی ٹی ائی کے جلسوں میں شرکت کر رہے ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ محمود خان نے مزید کہا کہ وہ منحرف اراکین کے ووٹ سے متعلق فیصلے پر اعلیٰ عدلیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔