News Details

09/11/2021

ڈینگی سے صوبائی دارلحکومت پشاور کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 12 علاقوں (ہاٹ اسپاٹس) میں ڈینگی مچھر کی افزائش نسل کی مستقل بنیادوں پر روک تھام کیلئے ان علاقوں میں عمومی صفائی ستھرائی، نکاسی اور پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کی بہتری کیلئے ایک خصوصی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثرہونے والے ان علاقوں میں بازید خیل، ماشو خیل، تہکال، پھندو، سفید ڈھیری ، پشتخرہ ، اچینی ، کوٹلہ محسن خان، سربند اور دیگر شامل ہیں۔ یہ فیصلہ منگل کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا ۔رواں سیزن میں وزیراعلیٰ کی زیر صدارت یہ تیسرا اجلاس ہے جس میں صوبہ بھر خصوصاً پشاور ڈویژن میں ڈینگی کی تازہ صورتحال، انسداد ڈینگی کیلئے متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کے اقدامات اور گزشتہ اجلاس میں اس حوالے سے کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑااور کامران بنگش کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، کمشنر پشاور، ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور محکمہ صحت کے متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے پشاور کے ان ہاٹ اسپاٹس میں صفائی ستھرائی ، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانے کیلئے خصوصی منصوبہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ صحت کو ان علاقوں میں ایسے تمام کاموں کی فوری نشاندہی کرنے جبکہ محکمہ بلدیات کو اس سلسلے میں جلد سے جلد منصوبے کا پی سی ون بنا کر منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے مجوزہ منصوبے کے تحت تمام کاموں پر عمل درآمد اگلے سال مارچ تک یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کمشنر پشاور کو منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی ۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام ڈویژنل کمشنر ز کو بھی اپنے اپنے ڈویژن میں انسداد ڈینگی سرگرمیوں کی بذات خود نگرانی کرنے اور اس سلسلے میں تمام سرگرمیوں کی رپورٹ باقاعدگی سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے عوام کو ڈینگی وائرس سے بچانے اور اس تناظر میں اُنہیں ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی کو اپنی حکومت کا اولین مقصد قرار دیتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے تمام درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی لیکن تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو اس سلسلے میں اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں بھر پور انداز میں پوری کرنا ہوں گی اور انسداد ڈینگی پلان پر من و عن عمل درآمد کرنا ہو گا، کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ کی صدارت گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بتایا گیا کہ پشاور کے تینوں تدریسی ہسپتالوں میں ڈینگی ٹیسٹ فری کردیا گیا ہے ، ڈی ایچ او پشاور کو عہدے سے ہٹا کر اُن کی جگہ دوسرا ڈی ایچ او تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ انسداد ڈینگی سرگرمیوں کیلئے مختلف محکموں کی طرف سے استعمال کردہ فنڈز کی جانچ پڑتال کیلئے انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ گزشتہ اجلاس کے فیصلے کے مطابق منتخب عوامی نمائندوں کی بھر پور مشاورت سے متاثرہ علاقوں میں انسداد سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ ہفتہ وار اجلاس منعقد کئے جارہے ہیں جبکہ صوبائی وزیر صحت کی صدارت میں انسداد ڈینگی اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے دو ہفتوں میں جائزہ اجلاس منعقد کیا جاتا ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ اب تک صوبے میں مجموعی طور پر ڈینگی کے آٹھ ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اموات کی کل تعداد نو ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت سوات سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں ڈینگی کیسز زیرو پر آگئے ہیں جبکہ پشاور کے ہاٹ اسپاٹس میں انسداد ڈینگی سرگرمیوں کیلئے ساڑھے چھ سو سے زائد ٹیمیں کام کر رہی ہیں