News Details

28/01/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور کے عظمت رفتہ کی بحالی پلان کی اصولی منظوری دے دی ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور کے عظمت رفتہ کی بحالی پلان کی اصولی منظوری دے دی ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام مجوزہ منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور ہر لحاظ سے قابلِ عمل منصوبوں پر آگے بڑھا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پلان میں شامل نئے منصوبوں کی فزیبیلٹی، پی سی ونز اور دیگر تکنیکی و انتظامی لوازمات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ پلان پر عملدرآمد میں تاخیر سے بچا جا سکے۔ وہ وزیر اعلیٰ ہاو ¿س پشاور میں پشاور کے عظمت رفتہ کی بحالی پلان پر ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اجلاس میں پلان میں شامل منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ری وائٹلائزیشن پلان پر واضح حکمت عملی کے ساتھ عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے تاکہ صوبائی دارالحکومت کی مجموعی حالت میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کو ایک جدید، خوبصورت اور پرسہولت شہر بنانا حکومت کا حتمی مقصد ہے اور مجوزہ پلان پر مو ¿ثر عمل درآمد سے آئندہ ایک دو سال کے دوران پشاور کی مجموعی شکل و صورت میں واضح تبدیلی آئے گی۔ اجلاس کو پلان سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور ری وائٹلائزیشن پلان کے تحت پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل کونسل بورڈ، اریگیشن ڈیپارٹمنٹ، مواصلات و تعمیرات اور پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے تحت اربوں روپے لاگت کے درجنوں ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ پلان میں شامل بعض منصوبے پہلے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں جن پر پیشرفت جاری ہے۔اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ پلان کے تحت اربن ایریاز کی 35 مرکزی شاہراہوں کی اپ گریڈیشن کے لیے فزیبیلٹی اور ڈیزائننگ پر کام جاری ہے جبکہ پیرزکوڑی فلائی اوور سے سوری پل اور امن چوک سے کارخانو تک بجلی کی تاروں کو انڈر گراو ¿نڈ کرنے کے منصوبے بھی پلان کا حصہ ہیں جن پر رواں سال مئی تک کام کے آغاز کی توقع ہے۔ مزید بتایا گیا کہ مختلف سڑکوں پر ٹریفک کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کر کے وہاں انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے کنسلٹنسی سروسز ہائر کر لی گئی ہیں۔ حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ سے ناردرن بائی پاس اور فرنٹیئر روڈ تک لنک روڈ کی تعمیر کو بھی پہلی ترجیح میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ناصر باغ تا ریگی ماڈل ٹاو ¿ن رنگ روڈ کے مسنگ لنک کی تعمیر، خویشگی اور تختہ باغ روڈ پر دو نئے تھیم پارکس کی تعمیر بھی ری وائٹلائزیشن پلان میں شامل ہے۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہائی ٹیک چلڈرن پارک، پیرزکوڑی انٹر سیکشن پر کلوورلیف انٹرچینج اور چمکنی کے مقام پر فریم آف پشاور کی تعمیر کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ والڈ سٹی پشاور کے تحفظ اور بحالی کے منصوبے کے لیے فزیبیلٹی اور ڈیزائننگ کی غرض سے کنسلٹنٹ ہائر کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاو ¿ہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کے تفصیلی پلان اور ٹرانسپورٹ ماڈلنگ اسٹڈیز کو بھی اس جامع منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کابل ریور کینال، بدنی نالہ، کینال پیٹرول روڈز اور دیگر اریگیشن انفراسٹرکچر کی بحالی کے اقدامات بھی پلان میں شامل ہیں۔ پرانی اسٹریٹ اور روڈ لائٹس کی مرمت اور نئی لائٹس کی تنصیب کے منصوبے کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چار نئے ذبح خانوں کی تعمیر، نئی واٹر سپلائی اسکیموں کا قیام اور غیر فعال موجودہ واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی سے متعلق منصوبے منظوری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ سینیٹیشن سسٹم کی بہتری، الیکٹرک روڈ کلینرز کی خریداری، شاہی کٹھہ کی بحالی اور فقیر کلے میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر بھی پلان کا حصہ ہے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پہلے سے جاری پشاور اپ لفٹ پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ باقی ماندہ کام ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو بروقت اور ٹھوس ریلیف فراہم کیا جا سکے۔