News Details

03/02/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ قومی سانحہ ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ قومی سانحہ ہے، اور دہشت گردی خواہ کہیں بھی ہو، اس کی مذمت میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ صوبہ اور نہ قومیت، لیکن اس کے نتائج ہمیشہ عام پاکستانی بھگتتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملاقات میں خیبر پختونخوا کے این ایف سی، اے آئی پی، این ایچ پی اور دیگر وفاقی بقایاجات سمیت سنگین مالی مسائل کو دوٹوک انداز میں وزیر اعظم کے سامنے رکھا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا برسوں سے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے، لیکن وفاق کی جانب سے واجب الادا رقوم کی عدم ادائیگی نے صوبے کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان اُمور پر سنجیدگی ظاہر کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال اور متعلقہ ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم کے ساتھ فوری طور پر اجلاس منعقد کریں تاکہ قابلِ عمل حل کی طرف پیش رفت کی جا سکے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو واقعی جیتنا ہے تو محض بیانات نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان سنجیدہ، مشترکہ اور عملی لائحہ عمل ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں صوبائی حکومت اب تک اپنے محدود وسائل سے 26 ارب روپے خرچ کر چکی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر وعدے تو کیے جاتے ہیں مگر عمل نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ مزید فالو اپ ملاقاتیں جلد ہوں گی اور جیسے ہی حتمی فیصلے طے پائیں گے، عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قربانیاں دینے والوں پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ناقابل قبول ہے۔ تیراہ، کرم اور باجوڑ کے عوام نے پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور آج بھی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار ارب روپے جیسی رقوم ان قربانیوں کے مقابلے میں کوئی احسان نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور عام شہری صفِ اول میں جانیں دے رہے ہیں، لیکن پالیسی سطح پر تاخیر، ابہام اور کمزور فیصلے ان قربانیوں کو بے معنی بنا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقت کا سامنا کیا جائے اور ذمہ داری قبول کی جائے۔ میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات بنیادی انسانی اور قانونی حق ہے، جس میں کسی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات کوئی سیاسی خواہش نہیں بلکہ ایک آئینی تقاضا اور ریاستی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ صرف ایک سیاسی کارکن ہوتے تو شاید ایسی ملاقات نہ کرتے، لیکن بحیثیت وزیر اعلیٰ وہ کسی بھی قیمت پر صوبے اور عوام کے مفادات کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔