News Details

04/02/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کا انتظامی انضمام تو کر دیا گیا مگر مالی انضمام تاحال نہیں ہو سکا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کا انتظامی انضمام تو کر دیا گیا مگر مالی انضمام تاحال نہیں ہو سکا، جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایک طرف خیبر پختونخوا کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا جبکہ دوسری جانب وفاقی سطح پر 5300 ارب روپے کی کرپشن ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوٹے گئے عوامی پیسوں سے کرپٹ حکمران بیرون ملک جزیرے اور فلیٹس خرید رہے ہیں لیکن تیراہ کے متاثرین کے لیے مختص صوبائی حکومت کے 4 ارب روپے پر شور مچایا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت وفاق خیبر پختونخوا کا 4758 ارب روپے کا مقروض ہے۔ نظامت امور نوجوانان اور ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے اشتراک سے نشتر ہال پشاور میں منعقدہ ینگ لیڈرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کے لیے صوبائی حکومت کی بلا سود قرضہ اسکیم کی رقم 3 ارب روپے سے بڑھا کر 5 ارب روپے کرنے اور ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے لیے 20 لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔ نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ بڑا انسان وہ نہیں جس کے پاس ڈگریاں اور دولت ہوں بلکہ اصل بڑا انسان وہ ہے جس کی سوچ بڑی ہو۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ملک کا درد سینے میں ہو۔ جو قوم خوددار نہ ہو وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ایک جعلی وزیر اعظم کسی بھی صورت ایک خوددار قوم کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم بیرون ملک جا کر پرائے ملک کے صدر کو سلوٹ مارتے ہیں جو ایک خوددار قوم کے شایان شان نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے پنجاب حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں عملی طور پر سول مارشل لا نافذ ہے، سیاسی آزادی سلب کی جا چکی ہے اور وہاں کے حکمران آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والی سوچ کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے سب کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے اور کوئی مقدس گائے نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں ہماری قیادت کے سیکیورٹی گارڈز سے اسلحہ لے کر اس کی رجسٹریشن اور گاڑیوں کے چیسس نمبرز ٹیمپر کیے جا رہے ہیں۔ بزرگ سیاستدانوں کو ناحق قید کیا گیا جو انتقامی سیاست کی بدترین مثال ہے۔ عمران خان کی اہلیہ جو ایک غیر سیاسی خاتون ہیں انہیں بھی ناحق قید کیا گیا جبکہ ان کی بہنوں پر رات کے اندھیرے میں اڈیالہ جیل کے سامنے زہریلا پانی چھوڑا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عزت و ذلت اور زندگی و موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اگر ایمان مضبوط ہو تو کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کا مستقل خاتمہ صرف ایک متفقہ، جامع اور واضح پالیسی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وقتی اقدامات، ردعمل پر مبنی فیصلے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ دہشت گردی کے مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور تمام سٹیک ہولڈرز باہمی مشاورت سے ایک مشترکہ پالیسی اپنائیں تاکہ دہشت گردی کی جڑوں کا خاتمہ کیا جا سکے اور پائیدار امن یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ان تمام مسائل پر ہر فورم پر آواز بلند کریں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم محدود وسائل کے باوجود کارکردگی کی بنیاد پر تیسری بار حکومت کر رہے ہیں اور اگر بقایاجات ادا کر دیے جائیں تو صوبے میں عوامی خدمت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد قانون اور آئین کے عین مطابق ہے اور آپ سب نے ہمارا ساتھ دینا ہے اور صوبے کے مفاد کے خلاف ہر فیصلے کی مزاحمت کرنی ہے۔ جنازے اٹھانے سے بہتر ہے کہ زندہ قوم بن کر آواز اٹھائیں۔ ہم ایسی پالیسیاں لائیں گے جن سے صوبے کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچے۔