News Details

07/02/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبےصوبائی حکومت پولیس فورس کو دہشتگردی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے اس کی استعداد میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت پولیس فورس کو دہشتگردی سے مو ¿ثر انداز میں نمٹنے کے لیے اس کی استعداد میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کر رہی ہے۔ جب سے حکومت سنبھالی ہے کاو ¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مضبوط بنانے کے لیے 7.7 ارب روپے فراہم کیے گئے جبکہ اسپیشل برانچ کے لیے 7.2 ارب روپے کا پیکج منظور کیا گیاہے۔ ضم اضلاع میں سیکورٹی انفراسٹرکچر اور پولیس کی استعداد میں اضافے کے لیے 6.5 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیف سٹیز منصوبے کو پشاور کے ساتھ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز اور ضم اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے جبکہ سیف سیٹیز منصوبے کے لیے 3.8 ارب روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ پولیس لائنز پشاور میں پولیس کو بلٹ پروف گاڑیوں اور جدید اسلحہ و سکیورٹی آلات کی فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، مزید بھرتیاں اور انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے گا۔مجھے خوشی ہے کہ ہم عمران خان کے وژن کے مطابق اپنی پولیس کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ دو دہائیوں سے خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف صف اول میں ہے، مزید قربانی سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ ایک مائنڈ سیٹ جو پاکستان پر قابض ہے اس نے ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ خیبرپختونخوا حکومت اپنی پولیس کے ساتھ کھڑی ہے، تمام ضروریات ہنگامی بنیادوں پر پوری کی جا رہی ہیں۔ انشاء اللہ بہت جلد صوبے کو دہشتگردی کے ناسور سے پاک کر لیں گے۔اپنی تقریر میں سہیل آفریدی نے کہا کہ جب بند کمروں کے فیصلے ہم پر لاگو ہوتے ہیں تو ان سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ ہم نے عمران خان کے وژن کے مطابق پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا ہے۔میرے خلاف نو مئی کے کیسز سے متعلق پولیس پر دباو ¿ ڈالا جا رہا ہے۔ جو سیاسی مقاصد کے لیے پولیس پر دباو ¿ ڈال رہے ہیں وہ اس سے بعض رہیں، خیبر پختونخوا پولیس کو غیر سیاسی رہنے دیں۔ بعد ازاں ، میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں جرگہ ہواجس میں متفقہ موقف اختیار کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف سیاسی و مذہبی جماعتوں، قبائلی مشران کو اعتماد میں لیکر ایک جامع اور لانگ ٹرم پالیسی بنائی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 8 فروری عوامی فیصلے کی توہین کا دن ہے، مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر 17 سیٹوں والوں کو حکومت میں بٹھایا گیا، سوال کرنا ہمارا حق ہے۔ ایک اور جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حملوں کی مذمت کرتے ہیں ،ہم غمزدہ بھی ہیں اور ہمدردی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ قبل ازیں ، پولیس لائنز پشاور دورے پر وزیر اعلیٰ نے یاد گار شہداء پر حاضری دی ، پھول رکھے اور شہداءکے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب میں باضابطہ طور پر پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں، ایس ایم جیز، بلٹ پروف جیکٹس، بلٹ پروف ہیلمٹس اور سنائپر رائفلز فراہم کیے جبکہ ٹریفک پولیس کے لیے نئے ہیوی بائیکس بھی فراہم کیے گئے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر سینیئر پولیس افسران بھی تقریب میں شریک ہوئے۔