News Details

10/02/2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وگرنسی (گداگری)کنٹرول اینڈ ریہیبلیٹیشن بل کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وگرنسی (گداگری)کنٹرول اینڈ ریہیبلیٹیشن بل کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے اور کہا ہے کہ یہ بل خیبر پختونخوا میں بھیک مافیا کے مکمل خاتمے کیلئے تاریخی قانون سازی ہے جو بھیک کے منظم نیٹ ورکس اور استحصال کے خلاف فیصلہ کن وار ثابت ہوگا۔ حکومت بھیک کے خاتمے کیلئے حقوق پر مبنی اور اصلاحی راستہ اختیار کر رہی ہے۔نئے بل میں بچوں کو بھیک پر لگانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی تجویز کی گئی ہے اور اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں مجوزہ قانون سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بچوں کو بھیک سے نکال کر تحفظ اور بحالی دینا حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، نیا وگرنسی بل استحصال کا خاتمہ، بحالی اور آفٹر کیئر کو یقینی بنا کر منظم بھیک کو قابلِ سزا جرم بناتا ہے۔ مزید برآں منظم اور جبری بھیک میں ملوث عناصر کیلئے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں جن میں کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ نیا قانون بھیک کو پیشہ بنانے والوں اور مافیا کے درمیان واضح فرق کرتا ہے۔ صوبے میں بحالی مراکز، ہنرمندی اور روزگار کے ذریعے بھیک کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے گااور بھیک کو پیشہ اور کاروبار بنانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلا صوبہ بننے جا رہا ہے جو بھیک کے مسئلے کا جامع اور پائیدار حل دے گا۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ خیرات منظم نیٹ ورکس کے بجائے مستند بحالی نظام کے ذریعے دیں۔اجلاس کو بل کے مقاصد، خصوصیات اور دیگر اہم پہلوو ں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں بھیک مانگنے کے رجحان کے مو ¿ثر تدارک، کمزور طبقات کے تحفظ اور معاشرتی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے خیبر پختونخوا ویگرینسی (کنٹرول اینڈ ری ہیبیلیٹیشن) بل متعارف کرانے جارہی ہے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد 2020 کے موجودہ ویگرینسی قانون کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، منظم اور جبری بھیک مانگنے کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا، بچوں کو بھیک کے استحصال سے محفوظ بنانا اور بھیک مانگنے میں ملوث افراد کی اصلاح و بحالی کے لیے ایک مو ¿ثر اور انسان دوست نظام قائم کرنا ہے۔ بل کے ذریعے سزا اور اصلاح کے درمیان توازن پیدا کرتے ہوئے ایسے افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے پر زور دیا گیا ہے جو غربت، مجبوری یا استحصال کے باعث بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔بل کے تحت مجوزہ سزاوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ سادہ بھیک پر پہلی بار وارننگ، بحالی مر کز منتقلی یا ایک ماہ قید اور جرمانہ تجویز کیا گیا ہے جبکہ بار بار بھیک مانگنے پر ایک سال تک قید اور پچاس ہزار روپے تک جرمانہ تجویز ہے۔ اسی طرح فراڈ اور دھوکہ دہی سے بھیک مانگنے پر ایک سے دو سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔جعلی معذوری اور فریب پر مبنی بھیک اب قابلِ سزا سنگین جرم ہوگا۔ منظم اور جبری بھیک میں ملوث عناصر کیلئے تین سال تک قید اور چار لاکھ روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔جبکہ بھیک مافیا کے سرغنوں اور سہولت کاروں کیلئے سخت ترین سزاو ¿ں کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ بل کی نمایاں خصوصیات میں حقوق پر مبنی اور بحالی پر مرکوز نقطہ نظر کا تعارف شامل ہے، جس کے تحت بھیک مانگنے کو محض جرم کے بجائے ایک سماجی مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ بل میں منظم، جبری اور فریبی بھیک مانگنے کی واضح قانونی تعریفیں شامل کی گئی ہیں جبکہ کمزور اور مستحق افراد کو جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے الگ شناخت دی گئی ہے۔ بچوں کی بھیک کو خصوصی طور پر واضح کیا گیا ہے اور ان کے تحفظ، بحالی اور فلاح کے لیے چائلڈ پروٹیکشن قوانین کے تحت کارروائی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ بل کے تحت بحالی، فنی تربیت، ہنرمندی، روزگار اور بعد از بحالی معاونت کے ذریعے بھیک مانگنے والوں کو دوبارہ معاشرے میں باعزت طور پر شامل کرنے کا مو ¿ثر نظام وضع کیا گیا ہے۔قانون کے نفاذ، پالیسی سازی اور نگرانی کے لیے صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی شق شامل کی گئی ہے جو اس ایکٹ کے تحت مرکزی کردار ادا کرے گی۔ یہ کمیٹی ویگرینسی ایکٹ پر عملدرآمد کی نگرانی، مختلف محکموں کے مابین رابطہ کاری، گرفتاری، منتقلی، نگہداشت، بحالی اور سماجی انضمام کے طریقہ کار کی منظوری دے گی۔ اس کے علاوہ کمیٹی حکومت کو بھیک کی روک تھام، کمزور افراد کے تحفظ اور عوامی شعور بیداری مہمات سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔ منظم بھیک مانگنے میں ملوث افراد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت اقدامات، بشمول پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور بینک اکاو ¿نٹس کی بندش اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کی سفارشات بھی اس کے دائرہ اختیار میں شامل ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا شیئرنگ، بایومیٹرک سسٹمز اور مانیٹرنگ ٹولز کے استعمال کے ذریعے قانون کے مو ¿ثر نفاذ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔بل کے تحت صوبائی حکومت کو ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز کے قیام اور موجودہ دارالکفالہ اداروں کو بحالی مراکز کے طور پر استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ ان مراکز میں بھیک مانگنے والوں اور ان کے زیر کفالت افراد کو عارضی تحویل، نگہداشت، علاج، نفسیاتی معاونت، تعلیم، فنی تربیت اور سماجی بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان مراکز کی نگرانی ری ہیبیلیٹیشن آفیسر کے ذریعے جبکہ مجموعی نگرانی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کے تحت کی جائے گی، اور ضرورت کے مطابق خدمات کو آو ¿ٹ سورس کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔بحالی اور اصلاحی اقدامات کی مالی معاونت کے لیے خیبر پختونخوا ویگرینسی کنٹرول اینڈ ری ہیبیلیٹیشن فنڈ کے قیام کی شق شامل کی گئی ہے جو نان لیپس ایبل ہوگا اور صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کے زیر انتظام رہے گا۔ اس فنڈ میں صوبائی و وفاقی حکومتوں کی گرانٹس، عطیات اور قومی و بین الاقوامی نجی تنظیموں کی معاونت شامل ہوگی۔ فنڈ کو بحالی مراکز کے قیام، دیکھ بھال اور بہتری، ہنرمندی و تعلیمی پروگرامز، بعد از بحالی معاونت، عبوری رہائش، روزگار کے مواقع، جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام اور عوامی آگاہی مہمات کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ بھیک مانگنے کی حوصلہ شکنی اور عطیات کو منظم فلاحی نظام کی طرف منتقل کیا جا سکے۔یہ بل صوبے میں بھیک مانگنے کے مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جو قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ انسانی وقار، سماجی انصاف اور بحالی کے اصولوں کو یکجا کرتا ہے۔