News Details
11/02/2026
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر وزیر اعظم سے تفصیلی ملاقات ہو چکی ہے اور اس حوالے سے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد کیا جا چکا ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر وزیر اعظم سے تفصیلی ملاقات ہو چکی ہے اور اس حوالے سے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ صوبے اور عوام کے مفاد میں ایک اہم اجلاس بھی ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ کبھی اپنی ذات یا سیاست کے لیے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کریں گے، تاہم صوبے اور عوام کے حقوق کے معاملے پر ہر شخص سے برابری کی سطح پر بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کے معاملے پر ذاتی ناپسندیدگی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ وزیراعلیٰ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دباو، دھمکیوں یا عمران خان کے نظریے کو نظرانداز کر کے خیبر پختونخوا سے کچھ بھی منوانے کی سوچ محض خام خیالی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر کامیاب طلباء، طالبات اور ان کے والدین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اصل ضرورت مواقع بڑھانے اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی کے باعث طویل عرصے تک نوجوانوں کو تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع سے محروم رکھا گیا، مگر موجودہ حکومت اس خلا کو پر کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے ترقی و خوشحالی کو دیر پا امن سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ سطح پر کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں ان کی وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات ہو چکی ہے جبکہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ صوبے اور عوام کے مفاد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، اور خیبر پختونخوا کو مزید کسی صورت تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔تعلیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جدید اصلاحات کے ذریعے نظامِ تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور محدود مالی وسائل کے باوجود نوجوانوں کی تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع پر خطیر وسائل صرف کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ صوبے کا کوئی نوجوان بے روزگار نہ رہے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باوقار روزگار میسر آئے۔وزیراعلیٰ نے وفاقی سطح پر صوبے کے واجب الادا حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا کے اربوں روپے واجب الادا ہیں جن کی ادائیگی صوبے کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ کے متاثرین کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے پر بلاجواز ہنگامہ کھڑا کیا گیا، جبکہ اصل مسائل پر دانستہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئی ایم کی رپورٹ میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی ہوئی، مگر اس پر کسی نے سوال اٹھانا ضروری نہیں سمجھا۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے آخر میں واضح کیا کہ وہ ذاتی مفاد کے بجائے صوبے کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے کسی دباو ¿ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔قبل ازیں انہوں نے فارغ التحصیل طلباءو طالبات میں اسناد تقسیم کیں جبکہ نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے طلبا و طالبات کو گولڈ میڈل دیئے۔