News Details
17/02/2026
وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں، اہلِ خانہ کی موجودگی میں اور ملک کے بہترین بین الاقوامی معیار کے اسپتال میں ہونا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں، اہلِ خانہ کی موجودگی میں اور ملک کے بہترین بین الاقوامی معیار کے اسپتال میں ہونا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کوئی عام قیدی نہیں بلکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں، جن کے ساتھ روا رکھا جانے والا موجودہ رویہ نہ صرف تشویشناک بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے عمران خان کے علاج کے معاملے پر حکومت کی ہٹ دھرمی سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ سرکاری طور پر جاری کردہ رپورٹ میں خود یہ اعتراف موجود ہے کہ عمران خان کی آنکھ ریکوری کی جانب ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنکھ کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ یہ سوال صرف پاکستان تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پوری قوم کا سوال ہے، اور یہ سوال ہمیشہ زندہ رہے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا علاج اس وقت ان کے ذاتی ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی غیر موجودگی میں جاری ہے، جو شکوک و شبہات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگر حکومت کے مطابق رپورٹس درست ہیں اور صحت بہتر ہو رہی ہے تو پھر ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ کو ملنے سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ 900 دنوں میں کبھی عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کی، نہ غلط بیانی کی اور نہ ہی کسی قسم کی سیاسی اسکورنگ کی، تاہم اب معاملہ سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے جس پر خاموشی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان گزشتہ کئی دنوں سے بغیر کسی باضابطہ کال کے سڑکوں پر موجود ہیں اور مکمل طور پر پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک گملہ تک نہ ٹوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج مہذب، آئینی اور قانون کے دائرے میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے کارکنان میں اپنے عناصر داخل کر کے انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ سہیل آفریدی نے بتایا کہ پارٹی کی حکمت عملی واضح ہے اور احتجاج کا لائحہ عمل پارلیمنٹیرینز تک محدود تھا، جس کے تحت عمران خان کی ہدایت پر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی قیادت میں ارکانِ پارلیمنٹ پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے پرامن دھرنا دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود کئی پارلیمنٹیرینز کو روکا گیا، مگر دھرنا جاری ہے اور کسی قسم کی آفیشل احتجاجی کال نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس وقت سخت آزمائش سے گزر رہی ہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی ناحق قید میں ہیں اور کارکنان جذباتی ضرور ہیں مگر انہیں صبر اور تحمل سے کام لینے کی تلقین کی گئی ہے۔ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کوئی ہجوم نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی جماعت ہے، جس میں واضح چین آف کمانڈ موجود ہے۔ احتجاج یا کسی بھی آئندہ لائحہ عمل سے متعلق فیصلہ صرف عمران خان کے نامزد کردہ قائدین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب آفیشل کال دی گئی تو عوامی ردعمل ایسا ہوگا جسے کوئی طاقت روک نہیں سکے گی، تاہم اس وقت معاملہ خالصتاً عمران خان کی صحت سے متعلق ہے اور اس پر سیاست نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ماڈل ٹاون یا ماضی جیسے کسی سانحے کو دہرانا چاہتی ہے تو یاد رکھے کہ پی ٹی آئی کارکن عمران خان کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، مگر پارٹی کا موقف آج بھی واضح ہے کہ جدوجہد پرامن، آئینی اور جمہوری رہے گی۔